..................................................................................................." />

Pakistan Online Traders

Know all about Ultimate Real Online Trading & Earning Ways
 Methods & Success Solutions to Be Your Own Boss

The Program You Will Need to Join for ,,,,,,, Financial Freedom,,,,,!
There really is no need to join any other program! 

EVER! 

The7Sites has it ALL! 


It has its own residual income stream - don't just earn 

once, earn EVERY month with

the monthly 2x10! 

Inexpensive! At only $7.77 per month - that is only 

about 

25 cents per day! (give up

once coffee at the coffee shop per week, or surf at a 

cash surfing site to earn this

easily!) 

Adequate earning potential! Without referral earnings you 

have the potential for 

$1000 
per month from that $7.77! 

Add in referral earning and you are set with the 50% 

Matching earnings on ALL your 

referral matrix earnings! 

PLUS instant commissions of $1.25 for EVERY REFERRAL 

EVERY Month! 

There are also 8 partner programs to earn from which 

are 

built virally through your

The7Sites referral pages and members area! Your income 

is endless as you build

 downlines in all 8 of these programs by building 

The7Sites! 

The partner programs have something for everyone - 

passive, matrix, cycling, and 

hybrids of each! Monthly, Weekly or One-Time 

payment/income! 

Also add in the 4 other sections of downline building and 

the potential is endless. 

You can also build YOUR own list using our squeeze page, 

where we also attempt to 

close the sale for you using our series of follow-up 

emails! 

No need to jump to the next big thing as this is the 

ONLY 

thing you need. 


 
            اقتصادی راہداری منصوبہ ,,, صوبوں کے تحفظات ,,, وزیر اعظم کی دانشمندی 

     وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت صوبائی حکومتوں کے مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبوں کی مشاورت سے راہداری منصوبے کا مغربی روٹ جولائی 2018 تک مکمل کرلیا جائےگا اورضرورت پڑنے پرروٹ کےلئے فنڈزمیں 40 ارب روپے کااضافہ بھی کیا جائے گا۔اجلاس میںوفاقی اور صوبائی حکومتوں نے باہمی مشاورت سے چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی راہداری کے منصوبے پر جاری ترقیاتی کام کا جائزہ لینے کےلئے وزیراعظم کی صدارت میں سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دےدی ہے جو گلگت بلتستان اور چاروں وزرائے اعلیٰ پر مشتمل ہو گی۔جمعے کو اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات کے خاتمے کےلئے پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس ہوا۔ وزیر اعظم نے تمام سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ باہمی مشاورت کےساتھ ہی منصوبے کو مکمل کیا جائے گا۔ جس کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کی حمایت کا اعلان کر دیا ۔چین اور پاکستان نے گذشتہ سال چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی بنیاد رکھی تھی، جس کے تحت 46 ارب ڈالر کی لاگت سے چین کو بذریعہ سڑک اور ٹرین گوادر کی بندرگاہ سے ملایا جانا ہے ۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے پر حکمراں اتحاد کی جانب سے حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے مغربی روٹ کو یکسر مسترد کرنے کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔انھی تحفظات کو ختم کرنے کےلئے وزیر اعظم نے مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل اجلاس طلب کیا تھا۔خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ، عوامی نیشنل پارٹی سمیت صوبے کی دیگر جماعتوں کے نمائندوں نے اجلاس کے دوران بتایا کہ گذشتہ برس وزیر اعظم نے اس اقتصادی راہداری کے منصوبے کے تحت مغربی روٹ پہلے بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن رواں مالی سال کے بجٹ میں صرف مشرقی روٹ کےلئے رقم مختص کی گئی لیکن حکومت نے مغربی روٹ کو یکسر نظر انداز کیا ہے۔ اجلاس میںوزیراعلی خیبرپختونخوا پرویزخٹک ، عوامی نیشنل پارٹی سمیت صوبے کی دیگر جماعتوں کے نمائندوں نے شکوہ کیا کہ منصوبے سے متعلق وزیراعظم نے گزشتہ برس مغربی روٹ پہلے بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن رواں مالی سال کے بجٹ میں صرف مشرقی روٹ کےلئے رقم مختص کی گئی۔اعلامیہ کے مطابق اقتصادی راہداری منصوبے کا مغربی روٹ 4 رویہ ایکسپریس وے پرمشتمل ہوگا اورموٹروے کے حصول کےلئے زمین کی ذمہ داری خیبرپختونخواہ حکومت کی ہوگی، مغربی روٹ پرپہلے مرحلے میں 4 لین بنائی جائے گی اوربعد میں وفاقی حکومت کی جانب سے زمین کی خریداری کے بعد اسے 6 رویہ بنا دیا جائے گا جبکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اقتصادی اورصنعتی زون کے قیام پرصوبوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ اقتصادی راہداری منصوبے پر جاری ترقیاتی کام کا جائزہ لینے کےلئے وزیراعظم کی صدارت میں اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شامل ہیں اور یہ کمیٹی ہر3 ماہ بعد منصوبے پرہونے والی پیش رفت کا جائزہ لے گی جبکہ صوبوں کےساتھ معلومات کے تبادلے کےلئے وزارت منصوبہ بندی میں سیل کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔اسٹیئرنگ کمیٹی میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کے علاوہ پلاننگ، پانی و بجلی، ریلوے اور مواصلات کے وزراءبھی شامل ہو نگے۔ اجلاس میں اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کی تعمیر کےلئے ڈھائی سال کے ٹائم لائن پر اتفاق کرتے ہوئے کہا گیا کہ مغربی روٹ پر ترجیحی بنیادوں پر تعمیر شروع ہوگی اور اگر ضرورت پڑی تو مغربی روٹ کےلئے مختص 40 ارب روپے کے فنڈز میں اضافہ کیا جائے گا۔ زمین کے حصول کےلئے فنڈز کی فراہمی وفاقی حکومت کرے گی جبکہ صنعتی زون کےلئے مقام کا تعین صوبوں کی مشاورت سے ہوگا۔ اجلاس میں مستقبل میں تمام تحفظات دور کرنے کےلئے ادارہ جاتی فریم ورک پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ معلومات کے تبادلے اور رابطوں کے لیے وزارت منصوبہ بندی میں سیل قائم کیا جائے گا۔
    وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا کہ اقتصادی راہداری سے تمام صوبوں کو فائدہ ہوگا، وزیراعظم نے سیاسی قیادت کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ سیاسی قیادت سے مشاورت کے بعد اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر کام کا آغاز ہوجائے گا۔مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ اجلاس کے دوران تمام سیاسی قیادت نے اقتصادی راہداری کی بروقت تکمیل کےلئے حکومتی اقدامات کی حمایت کی ہے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ مغربی روٹ کو ترجیح دی جائے گی، جس پر چار سڑکیں ہوں گی اور اگر ضرورت ہوئی تو اسے چھ سڑکوں تک بڑھایا جائے گا۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ چین کی طرح پاکستان بھی اپنے پسماندہ علاقوں کےلئے خصوصی اقتصادی پیکیج دے۔اجلاس میں شرکت کےلئے (ق) لیگ کے اجمل وزیر کو بھی کی دعوت دی گئی تھی مگر آخری وقت میں حکومت نے ان کا دعوت نامہ واپس لے لیا۔اجلاس میں وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ راہداری منصوبے پر تمام سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرینگے اور یہ منصوبہ پاکستان کی تقدیر کیلئے گیم چینجر ثابت ہو گا۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ مغربی روٹ پر کام تیزی سے ہوگا اور اس کی نگرانی خود وزیر اعظم کریں گے۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک نے کہا کہ ان کی جماعت منصوبے کےخلاف نہیں لیکن خیبر پختونخوا کے عوام کی حق تلفی ہوگی تو ان کی جماعت دیگر ہم خیال جماعتوں کےساتھ ملکر عوام کے حقوق کےلئے احتجاج کا حق رکھتی ہے۔
    چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں کے پائے جانےوالے تحفظات دور کرنے اور مغربی روٹ کی پہلے تعمیر یقینی بنانے سے متعلق یقین دہانی اور تمام پارلیمانی جماعتوں کی طرف سے اکنامک کوریڈور کی مکمل حمایت کا اعلان کرنا انتہائی خوش آئند اور حوصلہ افزاءامر ہے۔ ضرروت اس بات کی ہے کہ اب اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی تحفظات کی بھنک تک نہ سنائی دے ، گیم چینجر منصوبہ اپنی تکمیل کی منزل تک پہنچ سکے اور عشروں سے محرومیوں کا شکار چلے آرہے عوام کو سکھ کا سانس لینا نصیب ہو ۔ یہ ہماری بدقسمتی چلی آرہی ہے کہ تمام تر قدرتی وسائل سے مالا مال مملکت خداداد کے ارباب اختیار نے آج تک کوئی ایسی پایسی تشکیل ہی نہیں دی کہ جس میں اس پہلو کو مد نظر رکھا گیا ہو کہ وطن عزیز کو اغیار کا دست نگر نہیں بلکہ اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنا ہے ورنہ آج نوبت اس بات تک پہنچتی ہی نہیں۔اجلاس میں جس طرح پارلیمانی جماعتوں نے اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور اس ضمن میں جس طرح وزیر اعظم نواز شریف نے انکے تحفظات دور کرنے کےلئے متفقہ فیصلے لئے ہیں وہ یقینا بردباری و دانشمندی کا مظہر ہیں ۔ وطن عزیز کی بقاء وسلامتی ، ترقی و خوشحالی اور مسلم امہ کی قیادت کےلئے ایسے ہی جذبے کی ضرورت ہے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کے حوالے سے اب عوام کو تحفظات ، خدشات ، خطرات جیسی خبریں پڑھنے یا سننے کو نہیں ملیں گی بلکہ ہمہ وقت منصوبے پر ہونےوالی پیش رفت اور اسے نتیجہ میں ہونے والی ترقی و خوشحالی کی نویدیں ہی منظر عام پر آئیں گی یہ بت ہی ممکن ہو گا جب ہماری قیادت خلوص دل سے مذکورہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عملد رآمد یقینی بنائے گی ۔

Members Area

Newest Members

.,.,.,.,.,.,.

About Me

Powered by APSense Business Network


.,.,.,.,.,.,.

Work-at-Home Projects

Share With Friends

Traffic Value

 


................................................................... Flag Counter